کورونا وائرس ۔۔۔۔خود کو کیسے بچانا ہے ۔۔۔۔فیصلہ آپ کے ہاتھ
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ملک عبدالحکیم کشمیری ۔۔۔۔پہلی جنگ عظیم میں 50 لاکھ سویلینز سمیت کم وبیش ایک کروڑ 40 لاکھ لوگ مارے گئے ۔دستیاب اعداد وشمار کے مطابق اس عظیم جنگ کے اخراجات اور نقصان کا حجم 337 ارب ڈالر تھا۔دوسری عالمی جنگ میں سات سے ساڑھے آٹھ کروڑ لوگ کام آئے اور اخراجات کا تخمینہ4010 ارب ڈالر لگایا گیا ۔طاقتور قوموں کی طرف سے  وسائل پر قبضے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں برپا ہونے والی ان جنگوں کی 4347 ارب ڈالر پر مشتمل بھاری قیمت کسی نہ کسی شکل میں  دنیا بھر کے انسانوں کو ادا کرنا پڑی، مگر میدان جنگ ان ممالک تک ہی محدود رہا ۔اب صورتحال مختلف ہے، اسلحہ معشیت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں باہم دست وگریباں قوموں پر اچانک نادیده بلا ٹوٹ پڑتی ہے، رنگ و نسل علاقہ مذہب کی تفریق کیئے بغیر ایک طرف ساری دنیا ہے اور دوسری طرف کورونا وائرس، بحروبر سے فضا اور فضا سے چاند کو تسخیر کرنے والا انسان بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے، مذہب، قوم(ملک )،تہذیب، معاشرت، سیاست کورونا نے سب کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ۔اس   ّ غیر مرئی وائرس کے خوف نے انسانوں کو تنہائی پر مجبور کر دیا ۔توہم پرستی کے بت ٹوٹ پھوٹ گے، برتری کے سارے معیار بےنقاب ہوتے ہیں، ٹیکنالوجی کے خدا خود سجدہ ریز ہیں، نیوکلیئر بم سے دنیا کو ڈرانے والے سہمے ہوئے ہیں، زمین کے زرے زرے پر نظر رکھنے والوں کے دعووں کو اس وائرس نے پٹخ کر رکھ دیا، کفر کے سارے فتوے اپنی دلیل کی تلاش میں ہیں، فطرت کی جدت سے انکاری ممبر ومحراب کو چپ سی لگ گئی ہے، رموز فطرت پر گرفت کے مظاہر خواب بن چکے، دستیاب شعور زمین بوس ہو چکا،انسان کے خون پسینے سے دسمبر کو جون اور جون کو دسمبر میں بدلنے والے اب کہیں گرم کمروں میں کانپ رہے ہیں اور کہیں ٹھنڈے یخ کمروں میں پسینہ پسینہ ہیں اور ایک خوفناک عفریت کی کوکھ سے جنم لیتی نئی سوچ ہماری دہلیز پر کھڑی دستک دے رہی ہے۔ایک دم چند ہفتوں میں سب کچھ رک گیا، کاروباری سرگرمیاں، صنعتوں کا پہیہ، بحری بری فضائی خدمات بند، تعلیمی ادارے بند، بازار بند، ٹرانسپورٹ بند، سرحدیں بند ۔۔۔۔۔۔ایک ہی پیغام ہے، گھر میں قید ہو جاؤ، خود کو تنہا کر دو، لاک ڈاؤن، کرفیو، ہیلتھ ایمرجنسی،معاشی ایمرجنسی ۔۔۔دنیا بھر کے ممالک بڑے بڑے معاشی پیکج لیکر کورونا کے خلاف نبردآزما ہیں ۔امریکا 2.2 ٹریلین ڈالرز، جرمنی 825 ارب ڈالرز، برطانیہ 330 ارب پونڈز کا لون پیکیج، جنوبی کوریا 80 بلین ڈالرز، فرانس 50 ارب ڈالرز، کینیڈا 75 ارب ڈالرز، سنگاپور 34،متحدہ عرب امارات 34،ترکی 15.4،انڈیا 20 ،نیوزی لینڈ 12 ،سعودي عرب 32 ارب ڈالرز، سپین 200 ارب پونڈز، برازیل 11 ارب ڈالرز، سویٹزر لینڈ 10.2 ،چین 16،فلپائن 3.93،ملائشیا 4ارب 70 کروڑ ڈالرز اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی نے کورونا سے بچاو کے لیے 30 ارب ڈالرز کا پیکیج دیا ہے،ان ممالک سمیت دنیا بھر کے ممالک کی طرف سے جو مالیاتی اقدامات اٹھائے گے ان کا مجموعی حجم پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے زیادہ ہے۔ساری دنیا کے ڈاکٹرز تمام تر ممکنہ بہترین وسائل کے ساتھ دن رات مصروف ہیں مگر مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک ایسی وبا جس سے بچائو کے لئے نقل وحرکت محدود کرنے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی اور آپشن نہ ہو تو ایسی صورت میں ہم پر فرض ہے کو خود کو جہاں ہیں وہاں تک محدود کر دیں، اگر ہم نے معمولی سی کوتاہی کی تو ہمارا خاندان اس کی قیمت ادا کرے گا، یہ خیال رہے تمام تر مناسب اقدامات کے باوجود  حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے پاس وسائل کی شدید کمی ہے، یہاں کا ہیلتھ اسٹریکچر بہت کمزور ہے، آزاد کشمیر تو کسی شمار میں نہیں پاکستان صحت کی سہولیات کے حوالے سے دنیا میں 122ویں نمبر پر ہے ۔کورونا کی تباہی کا شکار فرانس اور اٹلی بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، اٹلی ایک آدمی کی صحت پر سالانہ 2700 ڈالر خرچ کرتا ہے پاکستانی کرنسی میں یہ رقم ماہانہ 37800 روپے بنتی ہے جبکہ پاکستان کے ہیلتھ بجٹ کے حساب سے ایک پاکستانی شہری پر سالانہ اخراجات 129 ڈالر ہیں ۔اٹلی میں 172 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر اور 300 افراد کے لئے ایک بیڈ ہے جبکہ پاکستان میں 957 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر اور 1580 افراد کے لئے ایک بیڈ ہے، آزاد کشمیر میں 3000 سے زائد افرد کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ 10 ارب 44 کروڑ بجٹ کے حامل محکمہ صحت کے گرچہ13493 ملازمین ہیں، لیکن موثر حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی قابل زکر نہیں، دو تین بڑے ہسپتالوں کے علاوہ باقی خانہ پری ہے، میڈیسن کا بجٹ صرف36 کروڑ 83 لاکھ ہے، دستیاب اعداد وشمار کے مطابق آزادکشمیر میں وینٹی لیٹرز کی کل تعداد صرف 25 ہے جن میں سے 12 حالیہ دنوں میں خریدے گے۔ ہماری سیاسی لیڈر شپ نے صحت کے شعبہ پر توجہ دینے کے بجائے نئے ماڈل کی لگژری گاڑیاں خریدنے کو ترجیح دی، گزشتہ سال وزیر اعظم اور صدر کے لئے جو گاڑیاں خریدیں گئیں اُن سے 100 کے قریب ری فرنشڈ وینٹی لیٹرز خریدے جا سکتے تھے، ری فرنشڈ وینٹی لیٹرز کی قیمت سات سے آٹھ لاکھ ہے جبکہ ہمارے ہاں بمپر سے بمپر گاڑیوں کی مرمتی پر پچیس پچیس لاکھ اخراجات کرنا معمول ہے،  ان مشکل حالات میں حکومت آزاد کشمیر کیا کرے؟ جو اقدامات اٹھائے گے، کیا وہ اس قدر بھرپور ہیں کہ ہم بے فکر ہو جائیں، تین ہفتوں تک گھروں تک محدود رہیں اور اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا ۔میرے خیال میں ایسا نہیں حکومتی اقدامات ناکافی ہونے کے ساتھ ساتھ عملاً غیر سنجیدگی کا مظہر ہیں، مثلاً محکمہ صحت کو حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بغیر ہتھیاروں کے فوج کو سرحد پر بھیجنا ۔انتظامیہ اور پولیس کے لئے مکمل حفاظتی اقدامات ایک اور چیلنج ہے۔آزاد کشمیر کے داخلی راستوں پر سکریننگ کا برائے نام طریقہ کار ناقابل بیان طوفان کا پیش خیمہ ہے۔گزشتہ تین چار روز میں پانچ چھ ہزار لوگ صرف کو ہالہ اور برار کوٹ سے دارلحکومت مظفرآباد میں داخل ہوئے اس سے دوگنا تعداد دیکر اضلاع میں واپس آچکی ہے۔۔کس کس کی سکریننگ ہوگی  اس کا میکانزم کیا ہے ۔ٹیسٹ سیمپل کی تعداد کم بتا کر کارکردگی دکھائی جا رہی ہے۔ معاملات چھپانے سے بات نہیں بنتی نہ وقت اس کی اجازت دیتا ہے ۔زلزلہ 2005 ہو یا اس طرح کے دیگر حادثے ہماری ایلیٹ کلاس کوہالہ سے پار محفوظ پناہ گاہوں کی طرف بھاگتی ہوئی نظر آئی مگر اب حالات اور ہیں اسلام آباد بھی غیر محفوظ ہے۔۔اس قضیے کا ایک ہی علاج ہے کہ مل کر مقابلہ کیا جائے ۔۔مالیاتی معاملات پریشان کن ضرور ہیں مگر اس کا حل موجود ہے،  ڈویلپمنٹ فنڈز 80 فیصد ریلیز ہو چکا جو ریلیز ہوا اس کا 35 فیصد ابھی استعمال نہیں ہوا، یہ چھ ارب سے زائد رقم بنتی ہے اس میں سے 25 فیصد دیہاڑی دار محنت کش طبقہ، چھوٹے تاجروں اور ضرورت مند طلبہ کو دیں۔باقی محکمہ صحت کو مظبوط کیا جائے ۔۔آمدہ الیکشن کے لئے اگر لیگی ممبران اسمبلی کو پیسہ نہ ملا کوئی قیامت نہیں آئے گی۔۔لوگوں کی زندگیاں بچیں گی تو سیاست ہوگی۔۔ایک ایک ووٹ مارک کر کے ووٹر کے گھر پہنچنے والے آجکل غائب ہیں ۔۔سو آزمائش کے ان لمحات خود کو گھروں تک محدود اور خاموشی سے ایک دوسرے کی مدد کرکے ہم محفوظ رہ سکتے ہیں اگر ہم نے معمولی سی لاپرواہی کی تو اٹلی اور سپین کے لوگوں کی طرح مارے جائیں گے۔۔ان کے پاس جو وسائل ہیں ہمارے پاس اس کا عشر عشیر نہیں ۔اسلام آباد کے اپنے حالات خراب ہیں ۔۔خود کو کس طرح بچانا ہے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کورونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، یہ عام فلو ہے، برازیل کے صدر نے حیرت انگیز بات کہہ دی