عمران کے خطاب پر ایک لطیفہ یاد آیا
ایک طالب علم نے صرف قائداعظم پر مضمون یاد کیا تھا، اب امتحان میں جب بھی مضمون لکھنے کا سوال آتا تو وہ قائد اعظم پر پورا مضمون لکھ دیتا -
سکول پر مضمون لکھنا ہوتا تو وہ مختصر سکول کا تعارف لکھ کر  آگے لکھتے کہ ہمارے سکول میں قائد اعظم کی تصویر لگی ہوئی ہے  اور پھر قائداعظم کی پوری ہسٹری لکھنا شروع کر دیتے تھے اس طرح جب کلاس روم پر مضمون لکھنا ہوتا تو تھوڑی سی کلاس روم کے بارے میں لکھ کر پھر لکھتے کے سامنے بورڈ کے اوپر قائد اعظم کی تصویر لگی ہوئی ہے اور پھر قائداعظم پر مضمون لکھنا شروع کر دیتا -
اسی طرح عمران خان ہے  جہاں بھی خطاب کے لئے جائے پہلے دوچار بات الگ کریں گے پھر وہی چوری، کرپشن کی باتیں شروع کر دیتے، ارے خدا کے بندے آپ کی نظر میں جو چور ہے وہ تو پکڑے گئے ہیں- جو باقی تھے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا، اب آگے بھی ملک چلانا ہے یا نہیں؟
نہ کوئی ویژن نہ کوئی ترقیاتی کام نہ کہنے کے لیے بہترین

Copied الفاظ بس وہی کنٹینر والی زبان -

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کورونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، یہ عام فلو ہے، برازیل کے صدر نے حیرت انگیز بات کہہ دی