’کشمیر: بات ہو، مگر ہو پتے کی ‘
 


 

مسئلہ کشمیر کا ایک پیچیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس معاملے سے متعلق تنازعہ، اس کے کردار اور اس کے حل کے لیئے کبھی ایک رائے نہیں بن سکی ہے۔ اس مسئلے کو دیکھنے، سمجھنے اور حل کرنے کے الگ الگ نظریے ہیں اور وہ خود ایک دوسرے کے اس قدر مخالف ہیں ہے کہ آدمی آخرکار اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے۔


اگنی شیکھر
اسی لیئے ابتداء سے ہی کشمیر غیر یقینی، عدم تحفظ ، خوف اور اندیشوں کا دوسرا نام رہا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اس کے متحد ہونے کو غیر مستقل کہا گیا۔ اور کبھی اس کے مستقبل اور نصیب کے ساتھ جذباتی نعرے جوڑ کر اس کے ساتھ سیاست کی گئی۔

کئی دہائیوں سے اس کے موجودہ حالات کا سیاسی رہنماؤں نے، نجی اور پارٹیوں کی سطح پر اس کا اور اس کے عوام کا فائدہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ مذہبی اور علاقائی پہچان کے سوالات بھی جوڑے گئے۔

اس طرح آئین کی دفع 370 نافذ کرنے کی ضرورت یا پھر اسے ہٹائے جانےکی ضرورت کی سیاست بھی جاری رہتی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نفاذ، اور اعدادوشمار کرانے کا مطالبہ تو مقامی سیاست کو سرگرم بنانے کا اہم پہلو رہا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو محمد علی جناح اور ان کی مسلم لیگ اور دو قومی نظریے کے ماننے والوں کا ایک خاصہ طبقہ کشمیر میں رہا ہے۔ لیکن مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف عوامی تحریک کا بگل بجانے والے رہنما محمد عبداللہ اور ان کی نیشنل کانفرنس پروان نہ چڑھی۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنے والے اور بعد میں اسے ’ کانسٹیٹیونٹ‘ اسمبلی میں منظوری دلوانے والے سیاسی رہنماؤں نے بھی لوگوں کو گمراہ کیا۔


تمام دعوں اور تنازعوں کے باوجود ہندوستان کی حکمراں جماعتوں نے کشمیر کے معاملے میں کوئی صاف پالیسی اختیار نہیں کی۔ کشمیر کو ملک کا مضبوط حصہ کہنے کے پیچھے حکمراں جماعتوں کا کمزور اور خالی دل صاف جھلکتا ہے۔ اسی لیئے راتوں رات مرکزي حکومت اور کشمیر کے عوام کے درمیان ’ بفر‘ کے نام پر ’ بچولیوں‘ کی چاندی ہو گئی۔

’بفر‘ کی سیاست یا دلالی کرنے والوں نے اپنے دوغلے پن اور رقم لوٹنے کی عادت پر پردہ ڈالنے کی غرض سے علیحدگی پسندوں اور مذہبی سخت گیر شدت پسندوں کو چوری چھپے مدد کرنا جاری رکھا۔ اور اس طرح کشمیر کو علیحدگی پسندوں کے جنون اور کشمکش میں بھی ڈالے رکھا۔

اس خود غرض سیاست کے سبب کشمیر کے ماحول میں ایک منفی تبدیلی تیزي سے آنی شروع ہو گئی۔ ایک طرف بچولیوں کی سفارشوں پر حکومتیں وادی میں بے شمار پیسہ بھیجتی رہیں اور دوسری جانب کشمیر سے متعلق دیگر غلط قدم اٹھاتی رہیں۔

کشمیر کی برف کے نیچے نفرت اور علیحدگی پسندی کی آگ سلگانے والوں کی پیٹھ پر پاکستان کا ہاتھ صاف دکھائی دینے لگا۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی نظر ہمیشہ سے کشمیر پر رہی ہے۔ اگرچہ وہ چار جنگوں کے باوجود کشمیر کو ہندوستان سے توڑ کر اپنے ساتھ ملا نہیں سکا۔ اسی لیئے اس نے ایک نئے انداز میں اپنی قسمت آزمانے پر اتر آیا۔

دنیا جانتی ہے کہ کشمیر میں شدت پسندوں کے لیئے خوراک کہاں سے آتی ہے۔ خود کو کشمیری مسلمانوں کا مسیحا بتانے والے پاکستان نے مبینہ طور پر ’آزاد کشمیر‘ کے عوام کی کیا حالت بنا رکھی ہے اور ان سے کیا سلوک برتا جاتا ہے یہ کوئی گلگت اور بلوچستان جیسے علاقوں کے لوگوں سے پوچھے۔

پاکستان کا دعوی ہے کہ ’ کشمیر بنےگاپاکستان‘ یعنی یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ وادی میں ہندوستان کی مخالفت کریں۔

پاکستان کے زيرِ انتظام کشمیر میں بھی کشمیر کے مستقبل کے لیئے عام رائے نہیں ہے۔ وہاں بھی واضح طور پر دو تین آوازیں ہیں۔ ایک کشمیر کو پاکستان کا حصہ ماننے والے لوگ، دوسرے اسے آزاد ملک کے طورپر دیکھنے والے لوگ اور اب کشمیر کے دونوں حصوں کو ملا کر ایک آزاد ملک کے روپ میں دیکھنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

حالیہ دونوں میں تیزي سے بدلتے حالات کے سبب پاکستان نے کشمیری علیحدگی پسندوں سے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ انہیں آزادی اور ’ریفرنڈم‘ کی بجائے ’ڈی ملیٹرائزیشن‘ اور ’سیلف رول‘ یا خودمختاری کی بات کرنی چاہیئے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان سے واپس آنے کے بعد حریت رہنماؤں نے بھی ’یونائیٹڈ جموں کشمیر‘ کے ساتھ ’سیلف رول‘ کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ کشمیر کے نام پر اپنی روٹی سیکنے والوں نے اب ’سیلف رول‘ اور ’ڈی ملٹرائزیشن‘ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ ’اوٹونومی‘ یا آزادی کا نعرہ تو پہلے ہی فضا میں موجود ہے۔

ان حالات میں ہم مسئلہ کشمیر کے داخلی اور خارجی معاملوں کی گہرائی کو نظر انداز کر کے اس کے حل کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟

اسی کے ساتھ جو دیگر پہلو جڑے ہوئے ہیں وہ ہیں علیحدگی پسندوں کی آواز جو پوری ریاست کے لوگوں کی نہیں ہے۔جموں کے لوگ، لدّاخ کے لوگ ، گجّر، بکروال ، شیعہ اور کشمیری پنڈت، سکھ اور دوسرے لوگوں کے تجربات اور نظریے الگ ہیں ۔ اس کے علاوہ جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں ہندوستان کے مخالف نہیں ہیں۔ اس لیئے یہ لازمی ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیئے تمام نظریات کو سنا جائے۔

ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی علاقائی اور ’جیو پالیٹکل‘ یا جغرافیائی اور سیاسی توقعات کو ذہن ميں رکھا جائے۔ اس طرح اس کا کو‏‏ئی مستقل حل تلاش کیا جائے جس سے سبھی کی توقعات کو پوری ہو سکیں۔

گزشتہ 17 برسوں سے جاری دہشتگردی نے وادی کےاصل باشندے کہے جانے والے لاکھوں کشمیری پنڈتوں کو جلاوطنی کی زندگی جینے پر مجبور کر دیا ہے۔ ’جہاد‘ اور ’نظام مصطفٰی‘ کے نام پر بےگھر کیے گئے لاکھوں کشمیری پنڈتوں کے واپس لوٹنے کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

ایسے میں نسل کشی اور انخلاء کے شکار کشمیری پنڈت وادی میں اپنے لیئے ’ہوم لینڈ‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسے میں ہم زیادہ دیر تک ریاست کو نئے سرے سے دوبارہ تشکیل دینے کی ضرورت سے بچ سکتے ہیں۔ کشمیر کے لیئے مختلف قسم کے تنازعات ، تضادات اور ’کانٹرڈکشنز‘ کو سمجھنے کی سب سے زيادہ ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم چاہے کتنی بھی ’راؤنڈ ٹیبل کانفرنس‘ کر لیں کہيں نہیں پہنچیں گی۔ بات کرنا تو ٹھیک ہے مگر شرط یہ ہے کہ بات پتے کی ہو۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کورونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، یہ عام فلو ہے، برازیل کے صدر نے حیرت انگیز بات کہہ دی